Arabic Calligraphy Background

خطاطی Calligraphy در اصل ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر کا فن ہے۔ یہ فن عام طور اسلامی ثقافت کا ورثہ رکھنے والے مُلکوں میں عام طور پر دکھائی دیتا ہے۔ جن زبانوں کو عربی رسم الخط میں لکھا جاتا ہے، ان میں خطاطی کا رجھان عام ہے۔ خطاطی کا خاص طور پر قرآن پاک سے بڑا کہرا تعلق ہے جس میں سورتوں اور آیتوں کو خطاطی کے طرز پر مختلف خطوب پر لکھا جاتا ہے۔

خطاطی کی تاریخ لگ بھگ کوئی ہزار سال پُرانی بتائی جاتی ہے۔ خطاطی کے سب سے پہلے کاتبین عباسی دؤر سے وابستہ بتائے جاتے ہیں۔ ابن مقله (۹۴۰-۸۸٦)، طلاکار ابن البوب (۹٦۱-۱۰۲۲) اور آخری عباسی خلیفہ کے معاون خان یاقوت المعتصمی جن کی وفات کا سال ۱۲۸۸ بتایا جاتا ہے۔ تاریخدانوں کے مطابق ابن مقله کو ہی خطاطی کا بانی تصور کیا جاتا ہے جنہوں نے چهہ مختلف تحریروں کو متعارف کروایا، جو چهہ قلم کہلاتے تھے۔ وقت کے ساتھ خطاطی نے سخت اصول اپنا لیے جہاں علم ہندسہ کے مطابق لفظوں کو کھنچا جاتا ہے اور نقطوں میں توڑ دیا جاتا ہے جسے ”قط“ کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہروف تہجی میں پہلا حرف الف، خط ثلث میں ایک قط چوڑا اور تین قط لمبا ہونا چاہیئے۔

خطاطی کی شاخیں

فن خطاطی کی دو اہم بنیادی شاخیں ”کوفی“ اور ”نسخ“ بہت مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ، بھی کافی خطاطی کے نمونی مشہور ہیں جن میں، ثلث، دیوانی، نستعلیق، عثمانی، فارسی وغیرہ۔ ان خطوط کو مختلف وقتوں میں مختلف طریقوں سے بنا کر نئے روپوں میں ڈھال کر نئے نام بھی دیے گئے، جیسے عثمانیہ دؤر میں دوانی خط کا عروج تھا، سی خط میں سے جلی دیوانی یا دیوانی الجالی ہے اور آہستہ آہستہ ”رقع“ خط کی شروعات ہوئی۔

فن خطاطی نے اسلام کے مذھب کو ماننے والے مختلف ممالک اور مختلف زبانیں بولنے والوں کو آپس میں جوڑنے کا کام بهی کیا ہے۔ عربی، فارسی ادو، سندھی، آذیری اور ترکی وغیرہ میں بهی یہ فن بہت مقبول ہوا۔

کلیگرافی اور کمپیوٹر

آج کے جدید دؤر میں ٹائپوگرافی کی وجہہ سے نئے فونٹ اسٹائل کی بنیاد پڑنے سے مختلف فونٹ استعمال کرتے ہوئے کتابت بہت آسان ہوچکی ہے۔ پہلے زمانے میں کاتب قلم کی قط بنانے میں وقت صرف کیا کرتے تھے آج ان ہی خطاطی کے نمونوں کو فونٹ کی شکل میں تبدیل کردیا گیا ہے، اور کمپیوٹر کی مدد سے ان کو چھوٹا یا بڑا کیا جا سکتا ہے۔

خطاطی کی سب سے بڑی خوبصورتی اس خط کے رموز یا نشانات ہوتے ہیں جو ان کے اور بھی زیادہ خوبصورت بناتے ہیں۔ خاص طور پر یہ رموز خط ثلث میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ جہاں تک کمپیوٹر میں کیلیگرافی کی بات ہے تو بہت سے ایسے سافٹویئر ہیں جن کی مدد سے کلیگرافی یا خطاطی آسانی سے کی جاسکتی ہے، ان میں اڈوب السٹریٹر، اڈوب فوٹوشاپ، کورل ڈرا، انک اسکیپ وغیرہ شامل ہیں۔ آج کے جدید دؤر میں بانس کے قلم گھڑنے کی بهی ضرورت نہیں کیونکہ ڈجیٹل قلم اور ٹیبلیٹ (Wacom) کے استعمال سے آپ اپنی مرضی کی قط بنا کر جیسے چاہے کیلیگرافی کر سکتے ہیں۔

اسی سلسلہ کی کڑی کا ایک فونٹ ”الخط الرموز“ جس میں صرف وہ رموز Symbols رکھے گئے ہیں جو خطاطی میں کام آتے ہیں۔ اس فونٹ کے استعمال سے ڈجیتل کیلیگرافی اور بهی آسان ہوگی، کیونکہ خطاط یہ روموز بنانے کی ضرورت نہیں پڑتی اور وہ یہ رموز کسی بهی فونٹ میں استعمال کر سکتا ہے۔ اس فونٹ کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کرنے کے لیے ”الخط التشکیل“ کا مضمون پڑہیے۔

I am Photographer & Web Designer. I always try to make something new. Typography is my hobby, I developed Arabic based fonts. Twitter: @Ayaz_Gul

Leave a Reply